اقوال

حالیہ پروگرام

مخدوم مستوار قلندر فرماتے ہیں

محبت مشن سے وابسطہ ہونے پر آپکو خوش آمدید کہا جاتا ہے، اس مشن کا آغاز آقا و مولیٰ حضرت محمدﷺ نے فرمایا جو ابد تک جاری رہے گا۔ ہزاروںویب سائٹ کی موجودگی میں مستوار قلندر ڈاٹ کام کو منتخب کرنا آپ کے اسلام کے ساتھ خصوصی دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس مشن کا ہر فرد آپ کے لئے اللہ رب العزت کے حضور دُعا گو ہے کہ آپ کا اپنی ذات کی آگاہی کے ساتھ ساتھ حضور پرُنور حضرت محمدﷺ کے ساتھ داہمی محبت کا تعلق برقرار رہے۔.

انسانیت کے لئے امن اور محبت کا پیغام

محبت تمہارے اور ہر چیز کے درمیان واسطہ ہے – رومی

انسانی تاریخ میں انبیاء،رُسل،صوفیاء،قلندروں کی یہی کوشش رہی ہے کہ تنوع میں اتحاد کی تعلیم کے ذریعے مذہب،عقیدہ اور نسل کی تفریق پر قائم ا ختلافات کوختم کیا جائے۔افسوس کے ساتھ آج کے دور میں ہر معاشرہ اپنی بنیادی اقدراوراخلاقیات کو کھو چُکا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے خلاف نفرت،انتقام اور لالچ کی بنیاد پر ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔
صوفی ازم کی تعلیمات تزکیہ روح (روح کی طہارت) کے گرد گھومتی ہے۔ یہ پاگیزگی خود آگہی اور ذات کے مشاہدے سے حاصل ہوسکتی ہے۔مراقبہ میں شعور کی اعلی ٰ منازل کو طے کر کے تمام مخلوقات کومتحد کیا جا سکتاہے۔ محبت ہی وہ الہامی شعور وہ جذبہ ہے جو آپس میں تمام لوگوں کو متحد کر سکتی ہے۔ محبت مشن پیر مستوار قلندر کا وژن ہے، جن کا مقصد محبت ، امن ا ور خیالات کی ہم آہنگی وخود آگاہی کے پیغام کو عام کرنا تاکہ مذہب، عقیدہ اور نسل کی اختلافات سے قطعِ نظر لوگوں کے درمیان تنوع میں اتحاد کے جذبے کوفروغ دیا جائے۔ مخدوم مستوار قلندر کا وژن “محبت سب کیلے” کے جذبے اور بنی نوعِ انسان کو مذید تباہی سے بچانا ہے۔

مخدوم سید محمودالحسن شاہ خاکی جنہیں مستوار قلندر کےنام سے بھی جانا جاتا ہےآپ چکوال میں پیدا ہوئے، اور سید رسول شاہ خاکیؓ کے فرزندِ ارجمند ہیں۔

آپ نجیب الطریفین سید ہیں۔ آپ کا شجرہ نسب حضور غوث الثقلین، غوث الاعظم محبوب سبحانی سید عبد القادر جیلانی ؒ سے مل کر حضرت امام عالی حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ سے پھر حضرت علی المرتضیٰ شیرِ خداؓ سے جا ملتا ہے۔آپ کا خاندان کشمیر (سری نگر)میں” خاکی”خاندان سےبھی جانا جاتا ہے۔حضرت داؤد شاہ خاکیؒ (1521-1585) آپ کے خاندان کی بارہویں پشت میں اپنے وقت کے مشہور جلیل القدر بزرگ گزرے ہیں یہ اپنے زمانے میں قاضی القضاۃ تھے۔

مخدوم سید رسول شاہ خاکی 1940 میں لاہور تشریف لائے اور کچھ عرصے کے بعد بعد آپؒ چکوال میں مرید گاؤں کے قریب اک جگہ پر سکونت پذیر ہوئے یہ جگہ اب مخدوم پُور شریف سے جانی جاتی ہے۔

مستوار قلندر نے اردوزبان میں شاعری، تصوف اور معرفت(روحانیت) کےموضوعات پر تصانیف تحریر کی ہیں۔

کتب