بیعت کا لفظی معنی بک جانے کا ہے۔ بیعت کے لغوی معنی عہد و پیماں کے ہیں۔ یعنی کسی تعلق کو اختیار کرنے پر عہد کرنا۔
قرآن پاک میں ارشاد پاک ہے ۔ ۔۔۔”اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔ ایک اور جگہ ارشاد باری ہے”۔
“وہ جوتمہاری بیعت کرتے ہیں وہ تو اﷲ تعالی ہی سے محبت کرتے ہیں ان کے ہاتھوں پر اللہ تعالی کا ہاتھ ہے”۔
بیعت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام سے کئی قسم کی بیعت لی یعنی بیعت عقبی اولی ، بیعت رضوان، بیعت ترک سوال،تجدید بیعت۔
ہمارے دادا مرشد پاک حضرت سید رسول شاہ خاکی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔ تلقین :
“خاندان اہل بیت کے کچھ عرصہ خدمت کرنے اور کسی مرشد کامل سے اجازت بیعت حاصل کرنے کے بعد ہر مسلمان کے ہاتھ پر بیعت کی جاسکتی ہے۔ لیکن آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت ہونے سے ہدایت کی ضمانت ہے۔ اسی لئے حضرت امام اعظم رحمتہ اللہ تعالی علیہ نے حضرت امام جعفر رضی اﷲ تعالی عنہ کی دست مبارک پر بیعت کی، اگر ایسا موقعہ ملے تو اس کی انتہا خوش نصیبی ہے ۔ بیعت توسل ہے اللہ جل شانہ کا اپنے پیارے محبوب پاک صاحب لولاک حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور پھر آپ کے سینہ اطہر سےاہل بیت اطہار اور ان تمام پیاروں کا جنہوں نے اپنی گردنیں محبوب کا ئنات کے آگے خم کیں”۔
آج ہم خوش نصیب ہیں کہ ہمیں مرد قلندر ایسا ملا ہے کہ جو الحمدللہ حسنی اور حسینی سید آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے ۔ ان سے بڑھ کراور کون ہوگا کہ جن کی بیعت پر ہم سب کو ناز ہو۔ آپ کا شجرہ مبارک اسی ویب سائیٹ پر موجود ہے کہ جو نسبت آل محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثابت کر رہا ہے۔
حدیث شریف ہے کہ” جس کا کوئی مرشد نہیں اس کا مرشد شیطان ہے”۔
تو آئیے شامل ہو جاےئے قلندر کے اس قافلے میں کہ جہاں نظروں سے مئے عرفان پلائی جاتی ہے ۔ جہاں مرشد اپنے مرید سے با خبر رہتا ہے چاہے وہ دنیا کے کسی خطے میں کیوں نہ ہو۔ یہ محبت مشن کا قافلہ رواں دواں ہے جس میں مرشد وہ روایتی سختیوں اور چلوں سے بے نیاز اپنی نگاہ ناز سے مستوار کئے جارہا ہے ۔ اک بار کوئی آئے تو سہی اس نظر میں وہ وسعتیں اور گہرائیاں ہیں کہ آپ روحانیت کو اپنے اندر محسوس کرسکتے ہیں۔ لمبے وظیفوں اور چلوں کی ضرورت نہیں بس دل کو اپنے کاسہ بنا کر آئیں اور وہ سب کچھ لے جائیں جو آپ اپنے گمان میں رکھ کر آئیں گے۔ کیونکہ اللہ گمان کے ساتھ ہیں آپ جیسا گمان کریںگے آپ کو اتنا ہی ملے گا۔
اگلے مرحلے میں آپ کو بیعت کا طریقہ بھی بتایا جارہا ہے کہ بیعت کیسے کیا جاتا ہے۔