کوہِ ماران کی چوٹی سے سری نگر شہر کا خوبصورت نظارہ آنکھوں کو خیرہ کرتا ہے۔کوہِ ماران پہ کشمیر کے عظیم ولی اللہ ،سلطان العارفین، حضرت مخدوم شیخ حمزہ ؒکا مزارِ اقدس ہے۔آپ کی درگاہ پچھلے پانچ سو سال سے بھی زیادہ عرصے سے تمام اہلِ کشمیر کی عقیدت کا مرکز ہے جس نے تاریخ کے ہر دور میں دل شکستوں اور گناہگارروں کو سہارا دیا ہے، جو خلوصِ دل سے آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ حضرت سلطان العارفین مخدوم شیخ حمزہؒ کی قبرِ مبارک کے ساتھ ہی آپ کے خلیفۂ اعظم اور خاکی خاندان کے جدِ امجد حضرت بابا داؤد شاہ خاکیؒ کی قبرِ انور ہے۔

حضرت بابا داؤد شاہ خاکیؒ کی ولادت با سعادت ۹۰۸ھ بمطابق 1502 ؁ء میں سید ابولحسن شاہؒ کے ہاں ہوئی جو حضرت شاہ محمد غوث لاہوریؒ کے پوتے ہیں۔آپ کا خاندان والیء کشمیر کے دربار سے وابستہ تھا۔حضرت بابا داؤد شاہ خاکیؒ کے بچپن میں ہی آپ کے والدِ ماجد کا انتقال ہوگیا تھا۔ والدہ نے آپ کی تربیت و کفالت کی۔آپ بچپن سے ہی بے حد ذہین اور لائق تھے۔آپ نے اپنے وقت کے جید اور نامی گرامی علمائے کرام جیسے اخوند ملا بشیر، اخوند شمس الدین پال، میر رضی الدین اور میر افضل سے تعلیم حاصل کی۔ آپ ایک بہترین فقہیہ اور شاعر تھے۔آپ کی انہی خصوصیات کی بناء پر والیء کشمیر نے آپ کو اپنے بیٹے کا اتالیق مقرر کیا۔ اور پھر آپ کشمیر کے قاضی القضاۃ یعنی چیف جسٹس بنا دیے گئے۔یوں آپ اعلیٰ شان و شوکت کے ساتھ شاہانہ زندگی گزار رہے تھے۔

ایک دن حضرت بابا جیؒ دریائے جہلم میں اپنی کشتی میں جا رہے تھے۔حضرت سلطان العارفینؒ نے انہیں جاتے دیکھا تو اپنے خادم صوفی اللہ داد کو کہا کہ جاؤ انہیں کہو کہ میں دین کے بارے بہت ہی اہم سوال ان سے پوچھنا چاہتا ہوں۔صوفی اللہ داد نے جب یہ پیغام حضرت بابا جیؒ کو جا کر دیا تو وہ سلطان العارفینؒ کی بارگاہ میں آنے کیلئے تیار ہو گئے۔جب بابا جیؒ دربار شریف پہنچے تو مخدوم شیخ حمزہؒ نے سوال کیا کہ شریعت اس شخص کے بارے میں کیا کہتی ہے جس نے ایک سانس بھی یادِ الٰہی کے بغیر لیا ہو۔حضرت بابا داؤد شاہ ؒ جی نے جواب کیلئے اپنی کتاب کھولی تو حیران رہ گئے کہ ان کی کتاب کے سارے صفحے بالکل خالی ہیں ،کتاب میں لکھا سب کچھ صاف ہو چکا ہے۔حضرت مخدوم شیخ حمزہؒنے فرمایا کہ تم بے کار میں اپنی لیاقت و قابلیت اور دولت و شان و شوکت پہ اتراتے رہے ہو۔حضرت مخدوم شیخ حمزہؒ کی اس کرامت و نظر کا ایسا خاص اثر ہوا کہ حضرت بابا داؤد شاہؒ نے شاہی عہدے کو خیر باد کہہ کر حضرت سلطان العارفین مخدوم شیخ حمزہؒ کے ہاتھ بیعت کر لی۔پھر آپؒ نے مرشد کے حکم پر ایسی ریاضت و چلہ کشی کر کے اپنے آپ کو خاک کی طرح یوں مٹاڈالا کہ “خاکی” کا لقب پایا۔ حضرت مخدوم شیخ حمزہؒ نے ۹۷۰ھ میںآپ کو سہروردیہ سلسلہ کی خلافت عطا کی۔

مرشد کی خدمت میں رہتے ہوئے ایک روز آپ کو اپنے ماضی کی ظاہری شان و شوکت اور دولت و مرتبے کا خیال آیا اور پھر اپنی موجودہ حالت جو کہ ظاہری طور پر اس طرح نہ تھی،پر آپ غمگین ہوئے۔اسی حالت میں آپؒ نے کوہِ ماران کی طرف دیکھا تو سارا پہاڑ سونے کا نظر آیا۔یہ آپؒ کے مرشد کی کرامت تھی۔ آپؒ کے دل سے سارا رنج و الم دور ہوگیا۔مرشد کے حکم پر آپ نے سارے کشمیر میں لوگوں کو دعوتِ اسلام دی اور بے شمار لوگ سہروردیہ سلسلہ میں بیعت ہوئے۔ حضرت داودشاہ خاکیؒ نے اپنے مرشدِکامل کی شان میں فارسی منقبت لکھی:

شکر للہ حالِ من ہر لحظہ نیک و تر شد است                 شیخِ شیخاں شیخِ حمزہؒ تا مرا راہبر شد است

آپؒ نے ۹۹۵ھ بمطابق 1587 ؁ء میں ظاہری دنیا سے پردہ فرمایا۔آپؒ کو ابتداء میں اننت ناگ میں دفن کیا گیا تھا۔آپؒ کے وصال کے تین ہفتہ کے بعدوالیء کشمیر کے خواب میں حضرت سلطان العارفین ؒ تشریف لائے اور اسے حکم دیا کہ حضرت بابا داؤد شاہ خاکیؒ کا جسدِ مبارک اننت ناگ سے اٹھا کرسری نگر میں انکے ساتھ ہی دفن کیا جائے۔والیء کشمیر نے خفیہ طور پہ اس کا انتظام یوں کیا کہ اعلان کروا دیا کہ سری نگر سے شاہی افواج کا ایک دستہ اننت ناگ کا دورہ کرے گا۔ اس دوران شاہی حکم ہے کہ تمام لوگ اپنے گھروں تک محدود رہیں۔پھر شاہی فوج کے سپاہیوں نے آپؒ کا جسدِ مبارک قبر کھود کر نکالا اور تابوت میں رکھ کر سری نگر کے لئے روانہ ہو گئے۔ابھی سپاہی اننت ناگ سے ذرا دور خانبل کے مقام پر پہنچے ہی تھے کہ اس بات کا علم کسی ذریعے سے اننت ناگ کے لوگوں کو ہو گیا۔لوگوں کا ایک ہجوم سپاہیوں سے آپؒ کا جسدِ مبارک واپس لینے کیلئے سپاہیوں کے پاس پہنچ گیا۔اور بات لڑائی جھگڑے و مار کٹائی تک پہنچ گئی۔ آخر کار اس بات پہ فیصلہ ہوا کہ جسدِ مبارک وہ لوگ لیں سکیں گے، جو اسے اٹھا لیں گے۔اننت ناگ کے لوگ لاکھ کوشش کے باوجود جسدِ مبارک زمین سے اٹھا نہ سکے۔جبکہ شاہی سپاہیوں نے اسے آسانی سے اٹھا لیا اور یوں آپؒ کو اپنے مرشد کی قبرِ انور کے ساتھ کوہِ ماران سری نگر مدفون کیا گیا۔اس بات سے آپؒ کے مرشدکی آپؒ سے محبت کا اندازہ ہوتا ہے۔

حضرت بابا داؤد شاہ خاکی ؒ کی تصانیف میں۔۔” ورد المریدین”، “دستور السالکین”، “قصیدہ جلالیہ”(حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت کے متعلق)، “قصیدہ لمیہ”( بابا حیدر رشی ؒکے متعلق) اور شرعی موضوعات پہ رسالے، “مجموعۃ الفوائد”، “ضروری کلاں” اور “ضروری خورد” شامل ہیں۔حضرت بابا نصیب الدین غازیؒحضرت بابا جیؒ کے خلیفۂ اعظم ہیں جن کا مزاربیج بہارہ کشمیر میں ہے۔حضرت بابا نصیب الدین غازیؒ کے چودہ سو خلفاء تھے۔

حضرت سلطان العارفین مخدوم شیخ حمزہ ؒ کا عرس مبارک ہر سال ۲۴ صفر کو منایا جاتا ہے،جس میں لاکھوں عقیدت مند شرکت کرتے ہیں۔ ہر بدھ کی رات کو تقریباً بیس ہزار سے زیادہ عقیدت مند دربار شریف پہ شبِ بیداری کیلئے حاضر ہوتے ہیںاور عبادت کرتے ہیں ۔آپؒ کا مزار شریف مغل شہنشاہ اکبر نے تعمیر کرایا تھا۔