شیخِ طریقت، رہبرِ شریعت، قدوۃالعاشقین، زہدۃ الواصلین حضرت پیر سید رسول شاہ خاکیؒ کا شمار بیسویں صدی عیسوی کی اُن چند نامور روحانی شخصیات میں کیا جاسکتا ہے، جن کی دعوتی تربیتی اور روحانی خدمات برصغیر کی اسلامی تاریخ کا روشن باب ہیں۔
سیدی مرشدی اعجازِ ہادی سید رسول شاہ خاکیؒ کا نام نامی اسم گرامی دادا حضور رحمتہ اللہ تعالی علیہ نے غلام رسول اور والدِ محترم رحمتہ اللہ تعالی علیہ نےرسول شاہ اور والدہ محترمہ نے منور شاہ رکھا۔ سید رسول شاہ خاکیؒ9 رمضان المبارک بروز پیر بوقت ظہر بمقام بولاب(مقبوضہ کشمیر، سری نگر) میں اس عالم آب و خاک میں جلوہ افروز ہوئے۔سیدی و مرشدی اعجاز ہادی سید رسول شاہ خاکیؒ نے پیدائش سے لے کر مکمل اکیس دن تک اپنی والدہ ماجدہ کا دودھ نہیں پیا جب تک عید الفطر کا چاند نظر نہیں آیا، یہ واقعہ آپؒ کے مادر زاد ولی ہونی کی پہلی نشانی تھی، بعدازں آپ کی حیات مبارکہ میں ایسے بےشمار واقعات و کرامات ملتے ہیں جو آپؒ کے محبوبِ خدا ہونے کی بین دلیل ہے۔
آپؒ نجیب الطرفین سید ہیں آپؒ کا شجرہ نسب حضرت پیر شاہ محمد غوث لاہوری سے مل کر سید عبدالوہاب گیلانی اور حضورر غوث الثقلین، غوث الاعظم محبوب سبحانی سید عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ سے مل کر حضرت امام عالی مقام حضرت امام حسنؓ و حضرت امام حسین ؓ سے پھر حضرت علی المرتضیٰ شیرِ خدا رضی اللہ عنہ سے جاملتا ہے۔ عہد طفلی میں آپؒ کشمیر کی وادیوں میں مستی کے عالم میں پھرتے رہتے تھے، انہی ایام میں آپؒ کی ملاقات پیر شریف الدین رفیقیؒ جو کے حضرت پیر مہر علی شاہؒ کے خلیفہ خاص تھے ان سے ہوئی۔تقسیمِ ہند سے پہلے آپؒ پیدل بارہ مولیٰ سے مری تشریف لائے اور بابا قاسم موہڑوی علیہ الرحمتہ کی خدمت میں پہنچ گئے، بابا قاسم موہڑویؒ سے فیض یاب ہونے کےبعد آپؒ نےروالپنڈی کا رخ کیا جہاں کشمیر روڈ پر کچھ عرصہ قیام فرمایا، دورانِ قیام آپؒ گولڑہ شریف میں حضرت پیر مہر علی شاہؒ صاحب کے دربارِ مزار پر انوار پر حاضر ہوئےاورفیضیاب ہوئے ۔حاضری کے دوران آپؒ کو حضرت پیر مہر علی شاہؒ سے اپنی بچپن کی ملاقات کا واقعہ یاد آگیا اور وہ تمام پیشن گوئیاں جو پیر صاحب نے آپؒ کے متعلق فرمائی تھی وہ سارا منظر آپؒ کی آنکھوں کے سامنے آگیا۔کچھ روز روالپنڈی میں قیام کے بعد آپؒ مرتسر تسریف لے گئے اس دوران آپؒ پر مجذوبیت کا دور دورہ تھا، امرتسر کے بعد آپؒ لاہور تشریف لائے اور لاہور میں مختلف علاقوں میں آپؒ نے قیام فرمایا۔ لاہور میں داتا حضرت علی ہجویری رحمتہ اللہ تعالی علیہ اور حضرت شاہ غوث محمد لاہوری رحمتہ اللہ تعالی علیہ کے دربار گوہر بار سے فیض یاب ہونےکے بعد آپؒ نےڈھوڈہ میں قیام فرمایا اور وہاں سے مرید گاؤں (چکوال) تشریف لائے بعدازں آپؒ نے موجودہ قصبہ مخدوم پور شریف کو اپنی مستقل سکونت کے لئے منتخب فرمایا۔ جذب و مستی سے سرشار امت کے دستگیر پیکرِ شفقت حضرت پیر سید رسول شاہ خاکیؒ اولیائے کرام کے ایسے گروہ سے تعلق رکھنے والے ایک با کمال ولی تھے جنہوں نے ساری زندگی حاجت مندوں، درد کے ماروں، مصائب و آلام کے طوفانوں میں گھرے ہوئے انسانوں کو اپنی نگاہِ کیمیاء کے اثر اور دعاو برکت سے فیضیاب کیا۔ راہِ حق سے منحرف اور صراطِ مستقیم سے بھٹکے ہوئے لوگوں کو فیضِ محبت سے راہ محبت پر گامزن کیا اور جو سراپا محبتِ دنیا میں ڈوب چکے تھے اور گناہوں کےدلدل میں پھنے ہوئے انہیں نگاہِ کیمیا کے اثر سے توبہ و حق پرستی کی طرف مائل کیا۔ حضور پیر صاحب ؒ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے جو علم و فضل، روحانیت و بصیرت، طہارت و تقویٰ، باطنی و ظاہری جاو جلال غرض ہر اعتبار سے آنے والے پر اثر انداز ہوتے تھے،آپؒ کی شفقت سب کے لئے یکساں تھی۔آپؒ کا عرس مبارک24، 25 جمادی الاول کو انتہائی محبت و احترام سے منایا جاتا ہے۔

نوٹ: پیر سید رسول شاہ خاکیؒ کے حالاتِ زندگی اور ان کی کرامات و تعلیمات پر ایک جامع کتاب “تذکرہ خاکی” کی شکل میں موجود ہے ، جس میں تفصیل کے ساتھ تمام واقعات تفصیل بند ہیں۔

  صوفی باصفا سید رسُول شاہ خاکی (رحمۃ اللہ علیہ)  کی یادگار تصاویر