پیدائش
حضور مستوار قلندر مخدوم پور شریف ، موضع مرید ضلع چکوال ,میں مرشدِ مجذوبان و قلندران و سالکان حضور مخدوم پیر سید رسول شاہ خاکی رحمتہ اللہ علیہ کے ہاں پیدا ہوئے ۔
حضورر مستوار قلندر کی پیدائش سے قبل بشارات
حضور مخدوم پیر سید رسول شاہ خاکی رحمتہ اللہ علیہ نے حضور مستوار قلندر کے متعلق فرمایا کہ تاجدارِاولیا حضور غوث الااعظم رضی اللہ عنہ نے مجھے بشارت دی کہ آپ کے گھر محمود آرہا ہے۔ آپ کی پیدائش سے قبل حضور پیر موسیٰ شاہ خاکی رحمتہ اللہ علیہ(حضور مخدوم پیر سید رسول شاہ خاکی رحمتہ اللہ علیہ کے والد گرامی قدر) نے خواب میں آکر بشارت دی کہ ہمارا بیٹا آپ کے گھر پیدا ہو رہا ہے۔ بابا داؤد شاہ خاکی رحمتہ اللہ علیہ(جوکہ آپ کے آباؤاجداد میں سے ہیں) کا ارشاد ہے کہ ہماری نسل میں ایک بچہ مادر زاد فقیر ہوگا اور اپنے آباؤ اجداد کی وراثت کا امین ہوگا۔ حضور مستوار قلندرکی پیدائش مبارک کا جب وقت آیاتو امی حضور بیان فرماتی ہیں کہ دو دِن قبل حضور مخدوم پیر سید رسول شاہ خاکی رحمتہ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ ہمیں بذریعہ خواب یہ بشارت ہوئی ہے کہ آپ کے گھر بیٹا پیدا ہوگا اُس کا نام محمود رکھنا اور وہ قلندر ہوگا۔ حضور مخدوم پیر سید رسول شاہ خاکی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے بشارت دینے والی ہستی سے خواب میں ہی پوچھا کہ اِس کی کیا نشانی ہے تو بتانے والے نے بتایا کہ آپ کے بیٹے کے جسم پر سرخ رنگ کے سات نشان ہوںگے۔ وہ سات قوتوں کی نشان دہی کرتے ہیں۔ پھر پیدائش کے بعد فرمایا کہ بچے کو نہلا کر اِدھر لے آؤ پھر وہ ان نشانات کو دیکھنے لگے اور واقعی سات نشان تھے ان کا رنگ بھی سرخ تھا۔ یہ دیکھ کر پیر صاحب رحمتہ اللہ علیہ ازحد خوش ہوئے۔
مزید براں پیر صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے حضور مستوار قلندر سے فرمایا کہ بیٹاتمہارا نام امام بریّ سرکار رحمتہ اللہ علیہ نے تجویز کیا ہے اور تمہاری ایک نسبت امام بری سرکار حمتہ اللہ علیہ سے بھی ہے۔ حضور مخدوم پیر سید رسول شاہ خاکی رحمتہ اللہ علیہ نے آپ سے یہ ارشاد فرمایا کہ میاں پاکستان میں ایسا کوئی نہیں جو تمہارا ہاتھ پکڑسکے بس ایک دفعہ بغداد شریف چلے جانا۔
حضور مخدوم پیر سید رسول شاہ خاکی رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان ہے کہ’یہ جو بڑا(حضور مستوار قلندر ) ہے یہ ابھی اِدھر توجہ نہیں دیتا۔جس وقت اِس نے اِدھر (سلوک کی طرف) توجہ دی تو یہ وقت میں واحدہوگا‘حضور مستوار قلندر نے ابتدائی تعلیم مرید گاؤں سے ہی مڈل تک حاصل کی۔کیونکہ اس زمانے میں گاؤں میں مڈل تک ہی مدرسے تھے۔ بعد ازاں درسِ نظامی کِیا۔پھر پرائیویٹ میٹرک کِیا ۔بعدازاں گورنمنٹ ڈگری کالج چکوال سے بی۔اے۔ تک تعلیم حاصل کی۔
خلافت کا عطا ہونا
ایک دفعہ حسبِ معمول حضور مخدوم پیر سید رسول شاہ خاکی رحمتہ اللہ علیہ داتا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے عرس پر گئے ۔حضور مستوار قلندربھی ساتھ تھے۔ داتا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے عرس مبارک سے فارغ ہوئے توحضور مخدوم پیر سید رسول شاہ خاکی رحمتہ اللہ علیہ نے داتا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے مزار کا سبز رنگ کا غلاف(چادر) منگوایا ۔اسے پیکو کروائی اور واپس گھر آئے۔ گھر لا کرامی جان کے حوالے کر دیا اور کہا کہ اسے سنبھال کر رکھو کچھ دِنوں کے بعد یہ تمہارے کام آئے گا۔ یہ دستار ہے ہمارے بعد محمودالحسن شاہ صاحب کو دے دینا۔ یہ واقعہ جناب پیر صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے وصال مبارک کے ٹھیک تین ماہ اور پانچ دِن پہلے کا ہے۔ یعنی اپنی حیات مبارکہ میں ہی پیر صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے حضور مستوار قلندر کی جانشنی کا علان کر دیا تھا۔علاوہ ازیں جس وقت آپ میٹرک میں تھے توعرس محرم الحرام میں دس محرم کی صبح بلا کرآپ کو دستارِ خلافت بھی عطا فرما دی تھی۔ حضور مخدوم سید رسول شاہ خاکی رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کی ظاہری روحانی و باطنی تربیت کی۔
والدِ گرامی حضور مخدوم سید رسول شاہ خاکی رحمتہ اللہ علیہ کے وصال کے بعد حضور مستوار قلندر نے الحمد اللہ، اللہ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد سے پیر صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے سلسلے کوسنبھالابعد میں اپنے آباؤ اجداد اور غوث الثقلین رضی اللہ عنہ کے حکم کے مطابق اپنا سلسلہ شروع کیا جس میں بے حساب کامیابی نصیب ہوئی۔ پیر صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے وصال مبارک کے بعد ابتداء میں کافی مشکلات اور مسائل تھے جو بعد میں اللہ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فضل وکرم سے دور ہو گئے۔ یہ وہی ارشادِ بابا داؤد شاہ خاکی رحمتہ اللہ علیہ کا کرم ہے کہ آج حضور مستوار قلندر تک یہ سلسلہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فضل سے قائم سب کچھ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد، جناب علی المرتضیٰ مشکل کشاء رضی اللہ عنہ، جناب غوث پاک رضی اللہ عنہ کی نظرعنایت اور والدِ گرامی حضور مخدوم سید رسول شاہ خاکی رحمتہ اللہ علیہ کی دعا سے ہے۔ آپ کا بہت عظیم محبت مشن ہے جس میں بے پناہ کامیابی ہوئی ہے اوریہ محبت مشن انشااللہ پورا ہو کر رہے گا۔

نوٹ : حضور مستوار قلندر کے متعلق آپ تفصیل سے کتاب “مہرِ منور شاہِ قلندر“میں پڑھ سکتے ہیں۔