سب تعریفیں اللہ پاک کی جو اندازےسے باہر کرم کرنے والا ہے۔ اور از حد درود و سلام پیارے مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام جو اندازے سے باہر رحمت کرنے والے ہیں۔ برادرانِ اسلام،خواتین و حضرات ! بندۂ ناچیز نے سوچا کہ اس کشمکش کے دور میں جب ہر طرف لادینیت چھائی ہوئی ہے اور بد عقیدگی کی فضا عام ہے اور نفس پرستی پر فخر کیا جا رہا ہے۔ اگر کوئی دنیا دار ہے تو دنیا کے کسی شعبے میں خلوصِ نیت سے کام نہیں کرتا۔اگر کسی کو علم کا دعویٰ ہے تو عمل سے دامن صاف ہے۔ اگر کوئی روحانیت کا دعویٰ کرتا ہے تو شرائطِ طریقت سے نابلد ہے۔ اگر کوئی دکھی انسانیت کی خدمت کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کو دکھ کا اندازہ ہی نہیں۔ الغرض ہر شعبہ چاہے اسکا تعلق دنیا سے ہو ،چاہے دین سے ہو،چاہے روحانیت سے،الجھا ہوا ہے اور اپنے اصل مقاصد کھو چکا ہے۔ فرقہ واریت کا دور دورہ ہے اور اس طرح اسلام دشمن عناصر اپنے گندے عزائم میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ فرقہ واریت کے ذریعے تمام مسلمان جو آپس میں بھائی بھائی ہیں،ان کو جدا جدا کر دیا گیا ہے۔ وہ مسلمان جو دوسرے مسلمان کے لئے اتنا درد رکھتے تھے کہ اگر ایک مسلمان ایک وقت مسجد میں نہیں جاتا تھا تو سب مل کر اس کو پوچھنے چلے جاتے تھے،آیا کہ وہ بیمار ہے یا کوئی اور مسئلہ ہے۔ لیکن اب صورتِ حال یہ ہے کہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں۔بغض و عناد اور نفرت کی آگ جل رہی ہے۔ یہ سب کچھ اغیار کا تماشہ ہے۔ ان سنگین حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام مسلمانوں کے لئے ایک چیز کا اپنانا انتہائی ضروری ہے،اوراس کا نام ہے محبت یہ ایک ایسا نام ہے کہ تمام مسلمانوں کو اکٹھا کرنا اس کا کام ہے۔ ورنہ سب کچھ کرنے کے باوجود ہر انسان بے نام ہے۔ اس اعلیٰ مقصد کے لئے بندۂ ناچیز پیر مستوار قلندر نے ایک مشن شروع کیا ہے جو کہ سیاست اور فرقہ واریت سے پاک ہے۔ جس کا مقصد تمام انسانوں کا آپس میں محبت کرنا اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنا ہے۔ اس مشن میں شامل تمام مرد اور عورتیں خلوصِ نیت سے کام کریں اور بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لیں اور اس مشن کے سلسلہ میں منعقد ہونے والی محافل میں شرکت کریں۔ بندۂ ناچیز پیر مستوار قلندر کے جو مریدین میں سے ہیں ،ان کے لئے اشد ضروری ہے کہ

وظائف کی پابندی کریں
تصورِ شیخ میں رہیں
نماز کی پابندی کریں
مرد اور خواتین جب تک جذبۂ ایمانی کے ساتھ کام نہیں کریں گے، تب تک منزل کو پانا دشوار ہے۔ہمارا مقصد تمام انسانوں کا آپس میں محبت کرنا اور راہنما کے تصور میں چلتے ہوئے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں مست ہونا ہے۔ نوٹ: ایک سوال اکثر ذہنوں میں گردش کر رہا ہے اور متعدد بار اس بندۂ ناچیز سے پوچھا بھی گیا ہے کہ آئندہ آپ کوئی سیاسی جماعت بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں،یا سیاست میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔تو اس کے متعلق میں نے واضح طور پر پہلے بھی لکھ دیا ہے اور بعض تقاریر میں بھی بیان کر چکا ہوں کہ آئندہ ہمارا کوئی سیاسی جماعت بنانے کا ارادہ نہیں ہے اور نہ ہی کسی سیاست سے غرض ہے۔مجھے یہ علم ہے کہ لوگ اس قسم کا سوال کیوں اٹھاتے ہیں۔اس کی وجہ پورے ملک میں سلسلہ اور مشن کا کام ہے۔چونکہ دن رات اللہ کے فضل و کرم سے سلسلہ اور مشن کا کام تیزی سے پھیل رہا ہے،بلکہ ملک کے کونے کونے تک پیغامِ قلندر پہنچ چکا ہے۔تو اس کے پیشِ نظر بہت سارے لوگوں کے ذہنوں میں آتا ہے کہ شاید آئندہ یہ کوئی سیاسی جماعت بنانے کا عزم رکھتے ہیں۔لیکن ہمارا سیاست اور فرقہ واریت سے کوئی تعلق نہیں ۔ہم صرف پیغامِ محبت تمام انسانوں تک پہنچا رہے ہیں۔ آخر میں دعا ہے کہ اللہ تمام انسانوں کو آپس میں محبت عطا فرمائے۔ آمین
بکھرے ہوؤں کو ایک رنگ دینے چلے ہیں
بھٹکے ہوؤں کو ایک سنگ دینے چلے ہیں
محبت میں رنگ کے ہم اپنے دل محمود
مسلم کو پیار کا ایک ڈھنگ دینے چلے ہیں

نوٹ : حضور مستوار قلندر کے متعلق آپ تفصیل سے کتاب “مہرِ منور شاہِ قلندر میں پڑھ سکتے ہیں۔