بیعت کرنے والے کو چاہئے کہ ظاہری اور باطنی طہارت کا اہتمام کرے۔ ظاہری طہارت یہ ہے کہ باوضو ہو “پاک صاف ہو” اچھا لباس پہنے اور خوشبو لگائے۔ باطنی طہارت یہ ہے کہ گناہوں پر نادم ہو توبہ کا سچا ارادہ ہو اور پیر و مرشد کی محبت اور اطاعت کا دل میں پختہ ارادہ رکھتا ہو۔ دو زانو ہو کر با ادب بیٹھے۔ دائیں ہاتھ میں دی جانے والی چادر پکڑ کر مُٹھی بند کر لیں اور بایاں ہاتھ بائیں زانو پر رکھیں۔ پیر و مرشد جو کچھ پڑہایئں بآوازِبلند دہرانا چاہئے۔ بیعت کے بعد ذکر کروایا جاتا ہے۔ جس سے دل پر خاص ضرب لگائی جاتی ہے۔ بیعت کے بعد مریدین کو چاہئے کہ اپنی سوچوں میں مرکز و محور اپنے پیر و مرشد کو بنا لیں یوں وہ مادی اور روحانی دونوں حوالوں سے کامیاب و کامران ہوں گے۔

٭ روزانہ پڑھنے کے لئے ذکر

وابستگان کی تعلیم و تربیت اور تزکیہ قلب کے لئے ہر روز پڑھنے کے لئے ذکر اذکار، اوراد و وظائف کی نصیحت کی جاتی ہے۔ لوگوں کو ان کی قلبی استعداد، باطنی رحجان، مزاج، ضمیر، عادات، حوصلہ اور وفا کو دیکھتے ہوئے ان کی طبعیتوں کے مطابق مختلف وظائف دئے جاتے ہیں۔ اگر ایک فرد اہلیت رکھتا ہو تو اہلیت سے عقیدت اور محبت بڑھتی ہے۔ محبت میں آنے کے بعد روحانیت اور فقیری شروع ہوتی ہے۔